مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شام کے حوالے سے قائم تحقیقاتی کمیٹی نے ملک میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور سیکڑوں افراد کے لاپتا ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، المیادین نے بتایا ہے کہ شام کے بارے میں تحقیقاتی کمیٹی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2025 کے آغاز میں ساحلی اور مغربی شام میں پیش آنے والے واقعات اور اسی سال جولائی میں سویدا میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران مسلح عناصر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائیاں انتہائی محدود رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جنوری میں شامی ڈیموکریٹک فورسز کے ساتھ مسلح جھڑپوں کے آغاز کے بعد سے سیکڑوں افراد اب بھی لاپتا ہیں اور ان کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔
تحقیقاتی کمیٹی نے شام میں انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے متعدد امور کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ ان میں حراستی مراکز میں ہونے والی اموات، کارکنوں کی گرفتاری، تشدد پسند نظریات کا پھیلاؤ اور خواتین، خصوصاً شامی خواتین کارکنوں کو لاحق خطرات شامل ہیں۔ رپورٹ میں سویدا میں دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی ہونی چاہیے اور کسی بھی فریق کو اس معاملے میں استثنا نہیں ملنا چاہیے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد جولانی کی قیادت میں قائم ہونے والی نئی حکومت نے انصاف کے قیام اور تشدد کے خاتمے کے وعدوں کے ساتھ ملک میں ایک نئے دور کے آغاز کا دعویٰ کیا تھا۔
تاہم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں سامنے آنے والی صورتحال کے مطابق، شام کو بدستور عدم استحکام، بدامنی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مسلح عناصر کی کارروائیوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
آپ کا تبصرہ